الودع
Poet: Ahber By: Ghulam Muhy ud Din, Lahoreسُدھ بُدھ نہیں ہے آج ذرا بھی
تُم کو پُکاروً تم کو روکوں۔۔؟
کیا کر دیکھوں تم نا جائو
کیا کر بیٹھوں تم نا جائو
دیوانہ ہوں کیا بتلائوں
میں کیا سمجھوں کیا سمجھائوں
کَس کو بتائوں کس سے چھُپائوں
خود سے۔۔۔؟
تم سے۔۔۔؟
کیسے ہوگا۔۔۔؟
کیسے روکوں آنسوں اپنے
آنکھوں کو کیسے سمجھائوں
تم ہی بتائو کیسے چھُپائوں
لِکھنا پڑے گا۔۔۔۔!
پیار کرو تو جانے والا
پھر نا لوٹ کے آنے والا
خنجر خنجر کر جاتا ہے
روح پہ وار چلا جاتا ہے
دل کے ٹکڑ� کر جاتا ہے
اندر والا مر جاتا ہے
تیرے لئے ہیں لاکھ دُعائیں
اپنے گھر میں خوشیاں پائے
میں تمکو آواز نا دوںگا
تم چھُپ کر آجانا مِلنے
اگر کبھی تم بہتر سمجھو
عہبر کو مہکاتے جانا
سُندر مُکھ دکھلاتے جانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






