الٰہی! شہر موہالی میں دشمنوں کو ڈھیر کرنے کی ہمت عطا فرما
Poet: Qasim Raza By: Qasim Raza, Faisalabad. الٰہی! مرد مجاہدیں میں کافروں کو زیر کرنے کی ہمت عطا فرما
الٰہی! شہر موہالی میں دشمنوں کو ڈھیر کرنے کی ہمت عطا فرما
الٰہی! کہاں وہ بت پرست اور کہاں تیری عظمت و رفعت
الٰہی! کر فتح سے سرشار حضور اکرم، نبی مکرم کے توسل سے
الٰہی! خلفائے راشدین اور پنجتن پاک کے صدقے سے
الٰہی! شہر موہالی میں دشمنوں کو ڈھیر کرنے کی ہمت عطا فرما
الٰہی! پاکستانی ٹیم میں نظر آئے وطن سے وفا صدیق کے صدقے
الٰہی! دکھائی دے جرات و شجاعت علی اور نواسہ رسول جیسی
الٰہی! سپاہ پاکستان کو بلال حبشی کی طرح عزت و حرمت سے نواز
الٰہی! شہر موہالی میں دشمنوں کو ڈھیر کرنے کی ہمت عطا فرما
الٰہی! غزوہ بدر کے مجاہدوں کی طرح مدد فرما پاکستانی ٹیم کی
الٰہی! محمد بن قاسم کی سی فتح کر جذبہ پیدا کر پکستانی ٹیم میں
الٰہی! پاکستانی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور فاطمہ کی کنیزوں کی التجا سن
الٰہی! شہر موہالی میں دشمنوں کو ڈھیر کرنے کی ہمت عطا فرما
الٰہی! یہ تشنئہ لب قاسم کے تجھ سے فریاد کرتے ہیں
الٰہی! شہر موہالی میں دشمنوں کو ڈھیر کرنے کی ہمت عطا فرما
الٰہی! مرد مجاہدیں میں کافروں کو زیر کرنے کی ہمت عطا فرما
الٰہی! شہر موہالی میں دشمنوں کو ڈھیر کرنے کی ہمت عطا فرما
( غلام تحریک منہاج القرآن اور شاگرد خاص عارف حسین عارف صاحب)
(قاسم رضا ، مرضی پورہ ، فیصل آباد ، پاکستان)
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






