امید ہی پہ قائم رہنا ہےآدمی کا
Poet: عبدالحفیظ اٹر By: عبدالحفیظ اٹر, Mumbai, Indiaامید ہی پہ قائم رہنا ہے آدمی کا
مایوس ہو کے جینا شیوہ نہیں جری کا
دیکھو جہاں میں ہرسو دستور ہے یہ جاری
ہر ظلمتوں کے پیچھے آنا ہے روشنی کا
ہوگی ہی آزمائش ہر ایک کی جہاں میں
نہ ہو سکے گا یاروں اس سے مفر کسی کا
کرتوت پہ نظر ہو شکوہ عبث ہے کرنا
دکھڑا ہی کیوں سنائیں اپنی ہی بے بسی کا
اعمال ہوں گے جیسے تب فیصلے بھی ویسے
احساس ہو ہی جائے اپنی ہی بے حسی کا
ہر حال میں نظر ہو اس کی ہی مصلحت پر
جو ہو گا وہ ہی بہتر شکوہ نہ ہو قوی کا
قربان کیوں نہ ہوئیں اپنے کریم رب پر
جس کے ہی دم سے جاری ہر کام زندکی کا
تخلیق کا تھا مقصد ہو بندگی اسی کی
اس کو نہ بھول جائیں فرمان ہے اسی کا
چلتے رہیں گے تب تو پا جائیں گے ہی منزل
ہمت سے کام لیناہو طرز ہم سبھی کا
گھیریں کبھی حوادث دشمن بھی ہو زمانہ
ہو چشم یار جس پر کیوں ڈر ہو نردئی کا
جو اثر کی ہی مانو ہوجاؤ تم اسی کے
تم کو بنا دے وہ ہی سردار اس دھرتی کا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






