اندھیروں کو جبینِ دہر سے اب دُور ہونا ہے
Poet: عائشہ بیگ عاشی By: aisha baig aashi, Karachiاندھیروں کو جبینِ دہر سے اب دُور ہونا ہے
نئے سُورج کی خاطر آسماں میں بیج بونا ہے
وطن کی سرزمیں کو، نسلِ کہنہ زخم دے بیٹھی
ہمیں ہر زخم بھرنا ہے، ہمیں ہر داغ دھونا ہے
وجُودِ نصف اپنا سازشوں میں کٹ چکا صد حیف!
وہی سازش کی رُت ہے ، پر نہیں اب، کچھ بھی کھونا ہے
لسانیّت کی بنیادوں پہ کیوں تقسیم کرتے ہو
ہمیں زنجیرِ پاکستان میں سب کو پرونا ہے
مصمَّم عزم سے کرنی ہے ہم کو جستجو لوگو
اسی مٹّی میں ہیرے ہیں، اسی مٹّی میں سونا ہے
مقدّم سب پہ رکھنا ہے، مفادِ ملک و ملّت کو
یہی قائد کا کہنا ہے، یہی عاشی کا رونا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






