انسان براۓ فروخت
Poet: فہیمہ خالد By: فہیمہ خالد , Lahoreبازار میں بہت بھیڑ تھی
اور ہر طرف
ایک عجیب سا
شور وغل تھا
میں نے واپس مڑنا چاھا
لیکن اچانک میرے قدم
وہیں رک گۓ
اور میں سکتے میں آگئی
جب میں نے دیکھا
وھاں انسانوں کے بھاؤ
لگ رھے تھے
جیسے وۂ انسان نہیں
ا ن کے سینے میں دل نہیں دھڑک رہا
یوں جیسے وۂ بےجان مورتیاں ھوں
یا پھر دوکانوں اور ٹھیلوں پر سجے ھوۓ
پھل یا سبزیوں کی مانند ھوں
جن کو دکاندار پانی کا چھڑکاؤ کرکے
تازہ دم رکھنے کی کوشش میں رہتا ھے
یا پھر بالکل ھی کوئی
بےخس و بے جان چیز
جیسے کوئی کرسی یا میز
یا گھر میں رکھا ھوا
بے کار فرنیچر
جسے جب چاہیں جہاں چاہیں
رکھ دیں
اور جب دل اوب جائے
تو اٹھا کر باہر پھینک دیں
بالکل ایسے ھی وہاں پر
جیتے جاگتے انسانوں کی
بولیاں لگ رہی تھیں
میں نے بہت ھی کرب ناک
منظر دیکھا کہ
عزت برہنہ حالت میں
بیچی جا رہی تھی
اور مول بڑھتا جا رھا تھا
مجھ سے یہ روح فرسا تماشہ
دیکھا نہ گیا
چند قدم آگے بڑھی تو
کیا دیکھتی ھوں
محبت کو خریدنے کے لۓ
ھر کوئی بے چین تھا
کتنے مورکھ ہیں یہ لوگ
نہیں جانتے
محبت کی قیمت
صرف محبت سے لگتی ھے
نہ دولت سے اور نہ محبت سے
میں شکستہ دلی سے
آگے چل دی
تو میری مڈ بھیڑ
بھوک سے ھوئی
میں اسے دیکھ کر تڑپ اٹھی
اور کہا
تم اٹھو چلو میرے ساتھ
میں نے سہارا دے کر
اسے اٹھانے کی کوشش کی
لیکن اس نے وہیں میری بانہوں
میں دم توڑ دیا
افسوس کہ
کہیں جھوٹ کے عوض
لوگ سچ خریدنے کے لۓ بضد تھے
سچ جو آج کے دور میں بکاؤ ھے
پیسوں کے چند سکوں کی خاطر
انسان کا بھاؤ
صرافہ بازار کی طرح
اتار چڑھاؤ کا شکار ھے
مول بڑھتے ہیں تو کبھی
کم ھو جاتے ہیں
شرفا کے لبادوں میں جب
چھید ھو جاتے ہیں
خون حاکموں کے بھی سفید
ھو جاتے ہیں
اور یوں سر عام انسان نیلام
ھوۓجاتے ہیں
مجمع بڑھتا جا رہا تھا
اور خریدو فروخت کا بازار گرم تھا
میرے چاروں طرف
امیدیں آخری سانسیں لے رہی تھیں
اور کہیں احساس پاؤں تلے
روندا جا رھا تھا
کہیں دم توڑتی ہوئیں
خواہشیں نظر آئیں
اور کہیں زندگی کے آخری
لمحات میں
آنکھوں کی بےبسی بھی دیکھی
یوں جیسے جینے کی تمنا ان کے لۓ
سزا ھے
ایسی سزا جو کسی جرم کی
پاداش میں نہیں
صرف زندہ رھنے کی سزا
میں سنائئ گئ ھے
میرے لۓ یہ سب
مزید اور دیکھنا
بہت ھی بھیانک اور
اذیت ناک تھا
میں الٹے قدموں وھاں
سے بھاگی
اور آج تک
اس گھن چکر سے خود کو
نہ نکال پائی
کہ کیا
انسان بھی برائے فروخت ھو سکتا ھے؟
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






