انسان کیا ہے وہ جسے خوفِ فنا نہیں

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, پاکستان

انسان کیا ہے وہ جسے خوفِ فنا نہیں
جیتا ہے اس طرح کہ جینے کی دعا نہیں

ہم نے تو عمر بھر نبھائی ہے خاموشی
وہ پوچھتے رہے، مگر سننے کا حوصلہ نہیں

ہر ایک زخم وقت نے وعدہ کیا تھا بھرنے کا
کچھ زخم ایسے تھے جنہیں وقت بھی ملا نہیں

وہ ساتھ تھا تو لگتا تھا سب ٹھیک ہو جائے گا
وہ گیا تو یہ بھی سمجھ آیا، کچھ تھا ہی نہیں

ہم اپنی ہار کو بھی اوڑھ لیتے ہیں مسکرا کر
یہ اور بات ہے کہ دل ہارا ہے، ہنسا نہیں

وشمہؔ یہی حقیقت ہے اس بے رحم سفر کی
جو اپنا لگتا ہے، وہی اکثر اپنا نہیں

Rate it:
Views: 4
08 Feb, 2026
More Life Poetry