انسان ہیں ہم
Poet: UA By: UA, Lahoreیہ نہ سمجھو بے جان ہیں ہم
کوئی پتھر نہیں انسان ہیں ہم
سینے میں دل دھڑکتا ہے
بدن میں روح پھڑکتی ہے
کہیں کوئی ستم جب ڈھاتا ہے
دل دکھاتا ہے روح تڑپتی ہے
مت بھولو ہم انجان نہیں
اپنے دست و بازو بھی ہیں
اور منہ میں رکھتے زبان ہیں ہم
یہ نہ سمجھو بے جان ہیں ہم
کوئی پتھر نہیں انسان ہیں ہم
کیوں چھینا جھپٹی لوٹ کھسوٹ
ظلم و بربریت ڈھاتے ہو
کیوں چین سے رہنے والوں کو
رلاتے ہو تڑپاتے ہو
کیوں آگ اور خون کی ہولی میں
ان بچوں کو نہلاتے ہو
پھر کہتے ہو انسان ہیں ہم
یہ نہ سمجھو بے جان ہیں ہم
کوئی پتھر نہیں انسان ہیں ہم
یہ نہ ہو قیامت آ جائے
یہ نہ ہو کہ دنیا مٹ جائے
انسانوں پرند حیوانوں کو
دری سحرا کہساروں کو
زمیں نگلے آسماں کھا جائے
کیوں حق سچ سے انجان ہیں ہم
یہ نہ سمجھو بے جان ہیں ہم
کوئی پتھر نہیں انسان ہیں ہم
اب جاگو اور آنکھیں کھولو
جو دیکھتے ہو وہ تو بولو
ہر اک فتنے کو کچل ڈالو
اب تو یہ دنیا بدل ڈالو
بے بس نہیں بے جان نہیں
کہہ دو کہ ہم شیطان نہیں
شیطان نہیں انسان ہیں ہم
یہ نہ سمجھو بے جان ہیں ہم
کوئی پتھر نہیں انسان ہین ہم
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






