انسان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مچّھر
Poet: Shahzad anwar khan By: Shahzad anwar khan, Sailani nagar,akola,maharashtra,Indiaاک بشر کو ایک دن مچّھر ملا
تجھ سے طاقتور میں ہوں کہنےلگا
بات پر مچّھر کی غصّہ آگیا
طیش میں انساں نے مچّھر سے کہا
مورٹن کی بات سے ڈر جائےگا
ہاتھ میں گر بیس لوں مر جائے گا
اب ذرا جاکے تو اپنا کام کر
خوف اپنا مچّھروں میں عام کر
اس پہ مچّھر نے کہا کہ اے بشر
ہر گھڑی رہتا ہے تجھ کو میرا ڈر
نام سے ڈرتا میرے انسان ہے
جو سمجھتا اب مجھے شیطان ہے
دیکھ مجھ کو میں تو بے اوزار ہوں
پھر بھی سینے پر میں کرتا وار ہوں
کھانا،پینا، جاگنا، سونا، خراب
کانٹنے سے میرے ڈینگو ہو جناب
(ڈینگو = ایک مرض )
کپکپی سردی لگے گی زور سے
سوئی تجھ کو پھر چوبھے گی زور سے
الٹیا ،سردر،چکّر،آئے گے
دیکھنے پھر سارے گھر پر آئے گے
اس پہ انساں نے کہا مچّھر سے سن
راستہ اس کا لیا ہم نے بھی چن
گندگی تیری غذا ہے جان کر
ہے نکاسی کا طریقہ گھر بہ گھر
تیل کیروسین کا ہم ڈال کر
نسل تیری ختم کرتے ہیں خبر
اس پہ مچھر نے کہا کہ اے بشر
لوٹ کے آخواب غفلت چھوڑ کر
بچّے،بوڑھے اور جواں بے ذار ہے
اب چکن گنیا یہ اگلا وار ہے
(چکن گنیا=ایک مرض)
درد ہوتا جوڑ میں بیمار کو
یاد کرتا مالک سنسار کو
میرے اللہ یہ مجھے کیا ہوگیا
جسم کا ہر اک عضو دکھنے لگا
چل بتا انساں قوی اب کون ہے
بات پر یہ رکھ لیا کیوں مون ہے
بولا انساں ہار میں نے مان لی
آج میں نے تیری طاقت جان لی
اس پہ مچھر نے کہا سنئے حضور
بھاگتے کیوں ڈر کے مجھ سے اتنے دور
رب نے تم کو بخشی ہے علیٰ کتاب
بھول جس کو تم گئے ہو اے جناب
مسئلوں کا حل چھپا قرآں میں ہے
مرض کے تیری دوا قرآں میں ہے
پھر بشر نے مچھروں سے یہ کہا
سب سے طاقتور ہیں ہم دیتے بتا
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






