انفاس ابھی
Poet: رشِید حسرتؔ By: رشِید حسرتؔ, Quettaغیر موجود کوئی تھا تو مرے پاس ابھی
چھوڑے جاتا ہے جو رخسار پہ انفاس ابھی
دل پذیری تری پازیب کی ہے رقص کناں
اور سارنگی مجھے ہجر کی ہے راس ابھی
میری خلعت کو ترا بخشا ہؤا ہے اعزاز
ناچتی رہتی ترے قرب کی ہے باس ابھی
شاہ زادوں نے مرے ہاتھ پہ بیعت کی ہے
سر فرازی کا مجھے ہوتا ہے احساس ابھی
حل طلب کوئی معمّہ ہے محبت کا قدیم
دل زدوں کا چلو بلواتے ہیں اجلاس ابھی
فصل بوئی ہے فسادوں کی، طلب امن کی ہے
جو اگائی ہیں، وہی پاؤ گے اجناس ابھی
خوش کلامی کا یہ آفاق سے اترا ہے صلہ
کھانے لگ جائے گا ہم زاد مرا ماس ابھی
ایک افلاس کا مارا ہے تو دوجے کے لیئے
ڈھیر لگ جائیں اشارے پہ ہی الماس ابھی
حق اگر پایا ہے اسنادِ فضیلت کا رشیدؔ
باعثِ طرۂِ دستار ہے لکھ پاس ابھی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






