انقلاب یا عذاب
Poet: Kiran shah By: Kiran shah, layyahیہ دود کہ جس میں امیروقت ہی امیر ہیں
جو یہاں بدنام ہیں وہي صاحب توقیر ہیں
مجرم آزاد ہیں آم آدمی اسیر ہیں
اس دور کے منصور الم کی تصویر ہیں
بس یہ دور انقلاب کا نہیں عذاب کا ہے
یہ ملک جو اک مرکز اسلام ہے
مگر اب ہرکوئی یہاں اسلام سےبےزار ہے
نفرتوں کی جیت ہے محبتوں کی ہارہے
یہی تو مسلمانوں کے زوال کا آغاز ہے
بس یہ دور انقلاب کا نہیں عذاب کا ہے
ہے زبان پر کلمہ مگر دل میں کچھ بھی نہیں
یہ بھی سچ کہ ہمارے اعمالوں میں رکھا کچھ نہیں
ہیں مسلمان ہم مگر ہے شان مسلمان کچھ نہیں
پھر کیوں کہتےہو دعاؤں میں اثر اب کچھ نہیں
بس یہ دور انقلاب کا نہیں عذاب کا ہے
ہے مسلمان تو اگر تو غیر کے آگے جھکتا ہے کیوں
ہے خدا جب رزق دیتا تو زر کا بندہ تو ہے کیوں
ہے تیری باتوں میں اسلام پر نہیں زندگی میں کیوں
پھر تم کہتے ہو خدا میری نہیں سنتا ہے کیوں
بس یہ دور انقلاب کا نہیں عذاب کا ہے
مال کی راسخ محبت دلوں میں ہو گئی
پھریوں ہوا سخاوت گئی اور غریبی آ گئی
ہاتھ پھیلایا تو جو خوداری بچی تھی وہ گئی
اسلاف کی عظمت گئی جمیعت مسلم گئی
بس یہ دور انقلاب کا نہیں عذاب کا ہے
پوچھتا ہے تو قصورزندگی اپنا تو دیکھ
کشمیرو برما میں بربریت کی سیاہ راتوں کو دیکھ
پھرتاریخ کے صفحے الٹ اور محمد بن قاسم کو دیکھ
تھی اسی زمین و فلک پہ دہشت مسلم تو دیکھ
بس یہ دور انقلاب کا نہیں عذاب کا ہے
آنکہیں تو ہیں اب بھی وہی پر نظر اب وہ نہیں
ذکر محبت عام ہے سوزمحبت اب نہیں
راستہ اب بھی وہی ہے رہبر اب وہ نہیں
کیسے آئے انقلاب من کا جہاں اب وہ نہیں
بس یہ دور انقلاب کا نہیں عذاب کا ہے
بس یہ دور انقلاب کا نہیں عذاب کا ہے
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






