ان دنوں
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiیہاں ہو، وہاں ہو
اِدھر ہو، اُدھر ہو
میں جس راہ چل دوں
تم اس راہ پر ہو
دھنک بن کے تم مجھ کو گھیرے ہوئے ہو
مہک ہوکے چوگرد پھیلے ہوئے ہو
کوئی جھونکا چھولے تو لگتا ہے ایسا
کہ سانسیں تمھاری مجھے چھو رہی ہیں
ہوا سرسرائے تو لگتا ہے ایسا
کہ شرما کے سرگوشیاں کر رہی ہو
مِرے دن تمھارے ہیں راتیں تمھاری
سجی رہتی ہے مجھ میں محفل مسلسل
جہاں ہوتی ہیں بس تمھاری ہی باتیں
سوائے تمھارے نہیں یاد کوئی
ہو دل میں تمھیں تم
یہاں ہے نہیں اور آباد کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






