ان سے چاہت کے گلے شکوے رہتے ہیں
Poet: Jamil Hashmi By: jamil Hashmi, Rawalpindiان سے چاہت کے گلے شکوے رہتے ہیں
وہ تو ہماری سانسوں میں چلتے رہتے ہیں
ان کی باتوں کا اثر رہتا ہے ہم پر
ہم وہی کرتے ہیں جو وہ کہتے رہتے ہیں
زندگی کا بھنور انہی کے گرد گھومتا ہے
ہم ان کے نام کی مالا جپتے رہتے ہیں
ہم ان کے لئے غزلیں لکھتے ہیں
لوگ ہمیں شاعر کہ کر پکارتے رہتے ہیں
ہماری باتوں کو شاید پیار کہتے ہیں
ہم یہ باتیں بار بار کرتے رہتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






