ان سے کہہ دو۔۔۔۔
Poet: UA By: UA, Lahoreان سے کہہ دو کہ ۔۔۔
مجھ سے مقابلہ نہ کیا کریں
مجھے مقابلہ بازی اچھی نہیں لگتی
ضد بحث چیلنج یہ سب میرا کام نہیں
میرے ساتھ ضد لگائیں نہ بحث کریں
چیلنج نہ کرتی ہوں کسی کو
نہ چاہتی ہوں کوئی مجھے چیلنج کرے
جانتی ہوں جسے بھی چیلنج کیا وہ قبل کر لے
تو پورا کرنے کے لئے حد سے بھی گزر جاتا ہے
اور حد سے گزر جانا مجھے اچھا نہیں لگتا
ان سے کہہ دو کہ مجھے
چیلنج نہ کیا کریں
مجھ سے مقابلہ نہ کیا کریں
مجھے مقابلہ بازی اچھی نہیں لگتی
مجھے تو بس اپنے آپ میں رہنا ا
سیدھی سادی زندگی گزارنا چھا لگتا ہے
ان سے کہو کہ
مجھے بیچ منجدھار میں نہ لے جائیں
مجھے ٹیڑھی ترچھی راہیں نہ دکھائیں
یہ لہراتی بل کھاتی زندگی مجھے اچھی نہیں لگتی
پھر یہ لوگ کیوں مجھے اپنے ساتھ ملاتے ہیں
کیوں مجھ سے اپنا موازنہ کرتے ہیں
مجھے اپنے مقابل لے آتے ہیں
جبکہ مجھے تو موازنہ و مقابلہ اچھا ہی نہیں لگتا
وہ کوئی اور ہیں اور میں کوئی اور ہوں
میں کوئی اور نہیں کوئی اور میں نہیں
پھر یہ لوگ مجھے۔۔۔
اپنی سوچ کے دائرے میں کیوں ٹٹولتے ہیں
کیوں میرے دل کے دروازے کھولتے ہیں
مجھے تو بند دریچوں میں رہنے کی عادت ہے
باہر کی دنیا میں جھانکنا
لوگوں سے لوگوں کو چھانٹنا
مجھے اچھا نہیں لگتا
میں کسی سے کچھ نہیں کہتی
کسی کو کچھ نہیں کہتی
پھر یہ لوگ کیوں۔۔۔ ہر دم
میرے بارے میں بات کرتے ہیں
میرا مقابلہ کیوں اپنے ساتھ کرتے ہیں
ان سے کہو کہ۔۔۔۔
مجھ سے مقابلہ نہ کیا کریں
مجھے مقابلہ بازی اچھی نہیں لگتی
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






