ان لوگوں کے جیون لمحے بھرپور نہیں ہوتے
Poet: UA By: UA, Lahoreان لوگوں کے جیون لمحے بھرپور نہیں ہوتے
جن کے دل درد الفت سے رنجور نہیں ہوتے
ایک سحر کی خاطر ہم نے کتنی راتیں کاٹی ہیں
لیکن جیون کے اندھیرے پھر بھی دور نہیں ہوتے
جس کے دن راتوں جیسے اس کی راتیں کیسی ہونگی
ایسے فرد کے دن اور راتیں کیوں پر نور نہیں ہوتے
ہم پر تیری رحمت مولا اپنی فطرت ایسی ہے
رنج و الم کے عالم میں بھی ہم رنجور نہیں ہوتے
اپنے اعداء کی تدبیروں کو ناکارہ کرتے ہیں
ہم پر قابو پانا چاہیں ہم مجبور نہیں ہوتے
تیری کرم نوازی ہے یہ جو کچھ ہم نے پایا ہے
اپنا کیا ہے سب تیرا ہم یوں مغرور نہیں ہوتے
سارا سارا دن کاروبار دنیا میں گزارہ کرتے ہیں
شب بیداری کر کے بھی دن بھر مخمور نہیں ہوتے
مولا تیرا کرم ہو جن پر ان کی فطرت ایسی ہے
کیسی بھی مشکل آجائے غم سے چور نہیں ہوتے
تیری رضا کی خاطر ہرغم خاموشی سے سہتے ہیں
خوشیاں مل جانے پر بھی زیادہ مسرور نہیں ہوتے
عظمٰی ہم نے دنیا میں ایسے لوگوں کو دیکھا ہے
علم و عظمت والے ہو کر بھی مشہور نہیں ہوتے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






