ان کے مال پہ۔۔
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamان کے مال پہ جو ہم نہ گزارہ کرتے
پھر کوئی بات نہ ان کی گوارہ کرتے
ان کی خاطر تویہ جان بھی حاضر تھی
ایک بار ڈانٹ کے وہ اگر اشارہ کرتے
ان کے صحن میں دیوار نہ ہوتی اگر
ہم اپنے ہی گھر سے ان کا نظارہ کرتے
کاش پہلی محبت سے کچھ سیکھ لیتے
پھر ایسی خطا کبھی نہ ہم دوبارہ کرتے
جشن مناؤ کہ سستے میں چھوٹ گےاصغر
وہ مزید ساتھ رہتے تو کیا حال تمہارا کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






