اور اپنے ساتھ محبت کے رنگ لائی ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلامیں تتلیوں کے نگر سے گزر کے آئی ہوں
اور اپنے ساتھ محبت کے رنگ لائی ہوں
ہر ایک دور میں زندہ روایتوں کے لئے
فصیل دار پہ میں ہئ تو مسکرائی ہوں
محبتوں میں عجب سلسلے ہیں جانِ وفا'
کبھی خود آئی کبھی میں بلا کے لائی ہوں
یہ رنگ و روپ تمہارا تمہیں مبارک ہو
میں زندگی کو نئے زاویوں میں لائی ہوں
یہ دھوپ چھاؤں کا منظر عجیب ہے اے وشمہ جی
میں موسموں کے سبھی رنگ دیکھ آئی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






