اور تنہا میرا چاند عاصم
Poet: ASIM JALAL RANA By: ASIM JALAL RANA, FAISALABADزمیں واقف ہے نہ آسماں اور تنہا میرا چاند عاصم
خوش خوش ہے سارا جہاں اور تنہا میرا چاند عاصم
نظر کے سامنے ہیں کھلے ھوئے پھول کیسےکیسے
یہ مچلتی بہاروں کا سماں اور تنہا میرا چاند عاصم
ھر اک سمت ہے مہرووفا کا سمندر موجزن
رت چاہت کی ہے جواں اور تنہا میرا چاند عاصم
یہ سوچ کے کانپ اٹھتا ھوں فصل بہار میں
سجی ہے بزم دوستاں اور تنہا میرا چاند عاصم
دن گزرے گا کیسے رات کٹے گی پرائے شہر میں
پرائے ہیں سارے لوگ وہاں اور تنہا میرا چاند عاصم
پھر نئی چوٹ لگی ہے پھر پرانے زخم جاگے ہیں
ھوں میں بھی بہت پریشاں اور تنہا میرا چاند عاصم
یہ خیال مجھے سونے نہیں دیتا کسی کروٹ شب بھر
بیت چکا ہے وقت خزاں اور تنہا میرا چاند عاصم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






