اور میں کیا کہوں
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Omanتمہیں دیکھتے ہی پروانہ بنا اور میں کیا کہوں
پروانے کی طرح شمع پہ جلا اور میں کیا کہوں
نظریں ملتے ہی دل میں ہلچل ہوئی اور میں کیا کہوں
ایک شعلہ سا بڑھکا سینے میں اور میں کیا کہوں
تیری پیشانی پر زلفوں کا گر کر سنبھلنا اور میں کیا کہوں
میری سوچوں پر اچانک چھا جانا اور میں کیا کہوں
نظریں ملا کر تیرا شرما جانا اور میں کیا کہوں
تیرے ہونٹوں کی سرخی رخساروں کی جُنبش اور میں کیا کہوں
تیری پلکوں پر پانی کے چند قطرے اور میں کیا کہوں
مجھے ویرانے میں سراب کی طرح انکا نظر آنا اور میں کیا کہوں
تیری اداوَں کا دل پر ستم ڈھانا اور میں کیا کہوں
میرا پھر بھی صرف تجھ ہی کو چاہنا اور میں کیا کہوں
بن تیرے ساتھ کے جینا اب ممکن نہیں اور میں کیا کہوں
ذوالفقار کے دل کی دھڑکن ہو تم اور میں کیا کہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






