اور کیا کرتا بیان ِ غم تمہارے سامنے
Poet: yawar azeem By: misbaah mushtaq, rawalpindiاور کیا کرتا بیان ِ غم تمہارے سامنے
میری آنکھیں ہو گئیں پُرنم تمہارے سامنے
ہم جدائی میں تمہاری مر بھی سکتے ہیں مگر
چاہتے یہ ہیں کہ نکلے دم تمہارے سامنے
پھر خدا کی ذات سے کیوں کر تمہیں انکار ھے
ھے اگر تنظیم ِ دوعالم تمہارے سامنے
یہ ملال ِ موسم ِ رفتہ ھے آخر کس لیے
مُسکراتا ھے نیا موسم تمہارے سامنے
جس میں ہم دونوں کے بچپن کی بھی اِک تصویر ھے
ڈھونڈ کر لایا ہوں وہ البم تمہارے سامنے
آتے آتے لب پہ رہ جاتی ہیں دل کی حسرتیں
کھولتے ہیں ہم زباں کم کم تمہارے سامنے
تُم سمندر کی طرح آغوش وا کرتے نہیں
ہم تو بن جاتے ہیں موج ِ یم تمہارے سامنے
کس لیے تُم نیند میں شرما رہے ہو اِس طرح
خواب میں کیا آ گئے ہیں ہم تمہارے سامنے
تُم نے اپنے قد کا اندازہ لگایا ھے غلط
ھے اگر قامت ہماری کم تمہارے سامنے
یہ دلیل ِ گریہء موج ِ صبا یاور نہ ہو
ھے گُل ِ تازہ پہ جو شبنم تمہارے سامنے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے







