اُسے کہنا، یہ دنیا ہے
Poet: Muhammad Owais By: Muhammad Owais, Lahoreاُسے کہنا، یہ دنیا ہے
یہاں ہر موڑ پر ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں
جو اندر تک اترتے ہیں
ابد تک ساتھ رہتے ہیں
اکٹھے درد سہنے کی
ہمیشہ بات کرتے ہیں
اسے کہنا، یہ دنیا ہے
یہاں ہر شخص مطلب کی حدوں تک ساتھ چلتا ہے
جونہی موسم بدلتا ہے محبت کے سبھی دعوے
سبھی قسمیں، سبھی وعدے
اچانک ٹوٹ جاتے ہیں
اُسے کہنا، یہ دنیا ہے
یہاں ہر موڑ پر اپنی
صدا آنکھیں کھلی رکھنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






