اُس دن کے روٹھ ہم سے خدا اور صنم گئے
Poet: zaigham jaffery By: zaighm jaffery, Daskaاُس دن کے روٹھ ہم سے خدا اور صنم گئے
جس دن سے یار ہم نہیں دیر و حرم گئے
لالے چمن کے سرد کیے ان خرائوں نے
جب سے بہارِ نو کے ہیں نقشِ قدم گئے
بزمِ ہنسی میں جس کا تماشا بنا رہا
وہ بدنصیب ہم تھے جو با چشمِ نم گئے
اک دن مری صدا پہ وہ باہر نہ آ سکا
محبوب کی گلی میں کہاں پھر سے ہم گئے
جن کے لئے ہے اوس ان آنکھوں میں ہر گھڑی
جانے کہاں وہ روٹھ کے میرے بلم گئے
بے ڈھنگ چلنے والے یہ کہتے ہیں نوجواں
قانون اور پہلے رواج و رسم گئے
تلوار لے کے آئے وہ ظالم جو سامنے
ہم بھی تو اپنے پیار کا لے کر عَلم گئے
اپنوں کی بدگمانیاں اس دل پہ جعفری
کچھ اس طرح بسی ہیں کہ ملنے ہی کم گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






