اُس شام سے کچھ منظر ڈھلتے دیکھے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiاُس شام سے کچھ منظر ڈھلتے دیکھے
یوں تنہائیوں میں بدن جلتے دیکھے
پیار کی تو کمریں اتنی مدہم نہیں
کئی جذبات کے دامن ٹوٹتے دیکھے
جبر رقیباں کے بعد یہ قہر خدائی
رفت قیامت میں چراغ بجھتے دیکھے
رواں یہ مسافت نازل کیئے بغیر
کچھ بے تعبیر مسافر چلتے دیکھے
اُس آنکھ میں بحر سا جو دیکھا
اپنے ہونٹوں کے ترش بھٹکتے دیکھے
عشق ترغیب کچھ پھسلاؤ ہے سنتوشؔ
توُ نے کس کے پاؤں سنبھلتے دیکھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






