اُس نے راہ پھیرلی چلتے چلتے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiاُس نے راہ پھیرلی چلتے چلتے
بات پھر بگڑ گئی بنتے بنتے
وہ لمحہ تھا تو کیا سرُور تھا، ہر نین بھی وہیں مخمور تھا
سوچا کہ آگے چل کر سوچ لیں گے، اس کا کوئی حال پوچھ لیں گے
وہاں منزل مُڑ گئی ملتے ملتے
بات پھر بگڑ گئی بنتے بنتے
اُسے زیادہ چخ کی ضد تھی، مجھے اپنے رُخ کی ضد تھی
شاید کوئی نظر کا دھوکا تھا، یا ہوا کا چنچل جھونکا تھا
منظر ہی کھوگئے ہنستے ہنستے
بات پھر بگڑ گئی بنتے بنتے
زندگی کا یہ کیسا غرور تھا، کہ میرا عشق بھی مجبور تھا
دل کا سارا سکون لے گیا، جو دینا تھا ناموزون دے گیا
تھک گیا حساب گنتے گنتے
بات پھر بگڑ گئی بنتے بنتے
جو جستجو تھی بے قرار نکلی، یہ امید بھی تو بیزار نکلی
من نے کہا ہمزاد جوڑدو، اس نے کہا آزاد چھوڑ دو
ہم جدا ہوگئے لڑتے لڑتے
بات پھر بگڑ گئی بنتے بنتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






