اُس چلمن سے اڑتی فضا جھار ڈالتی ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiاُس چلمن سے اڑتی فضا جھار ڈالتی ہے
میرے چہرے پہ بڑے انتشار ڈالتی ہے
انہیں کہدو کہ اپنی حدوں میں رہا کرے
لاحدوں کو صدا تو مار ڈالتی ہے
یہ مغوی ابکہ بس مدھوش دکھتے ہیں
تیری نینوں کی قیاس احتمالی خار ڈالتی ہے
امیدوں سے بھٹکتا کبھی تو آئے گا
وہ ہر روز پرندوں کو جوار ڈالتی ہی
تیری خودی میں کچھ بھی بسا ہو مگر
نگاہ منظروں پہ خوب ڈالتی ہے
یہ جوانی کا جلوہ چھپائے نہیں چھپتا
وہ رُخ پہ چادر ہر بار ڈالتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






