اُففف میں بھی ناں!!! کتنی پاگل تھی
Poet: ثناء خان تنولی By: ثناء خان تنولی, حسن ابدالترے ہر جھوٹ کو سچ کر دیتی تھی
تُو رات کو دن اور دن کو رات کہتا
تو میں رات سمجھ کر سو جاتی تھی
میں بھی ناں اُففف!! کتنی پاگل تھی
ہر بار بڑی آسانی سے آ جاتی تھی تیری
من گھڑت سی باتوں میں، تیری میرے
نام کی جھوٹی قسموں اور وعدوں میں
مَیں بھی ناں اُففف!! کتنی پاگل تھی
ہر روز دیر تلک مجھےانتظار میں رکھنا
اور بنا شب بخیر بولے ہی وہ سو جانا تیرا
میں جاگ کر تری سانسیں سنتی تھی
میں بھی ناں اُففف!! کتنی پاگل تھی
میں جب تجھ سے جا ملنے کی خوشی میں کہیں
ہواؤں میں تھی تُو نےتب اتنی ہی محبت بھری
نفرت سے ساتویں آسمان سے گرایا تھا مجھے
میں بھی ناں اُففف!! کتنی پاگل تھی
ہر روز تیری تصویر سے گھنٹوں باتیں کرتی
اپنی انگلیاں تیری آنکھوں پر پھیرتی رہتی
ادھ کُھلی آنکھوں سے تجھے تکتی رہتی
میں بھی ناں اُففف!! کتنی پاگل تھی
جب تجھ سے ملنے کا وقت قریب آ پہنچا
تب ہی کیوں غائبانہ مجبوریاں راہ محبت
میں آ ٹھہریں ؟اور میں بس چپ رہی
میں بھی ناں اُففف!! کتنی پاگل تھی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے








