اُ س کے لئے یوں محبت کا ہر باب لکھوں گی کہ
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratاپنی آنکھوں کے خواب لکھوں گی
تما م سوالو ں کے جواب لکھو ں گی
چہرہ اُس کا ہے کہ جیسے ماہتا ب
ہونٹوں کو اُس کے گلا ب لکھوں گی
اُس کے واسطے سب آسانیا ں
اپنے لیے سارے عذاب لکھوں گی
وہ جو مجھ پہ ذرا سا برس جاتا تو قیامت ہوتی
نہیں برسا نہ کیا مجھے سیراب لکھوں گی
جو بھی پڑے گا تو پڑھ کے کھو جائے گا
محبت کی ایسی ہی کتاب لکھوں گی
اس کے ہر ورق میں جھلکے گا بس تیرا خمار
ایسا محبت رسیدہ ہر باب لکھوں گی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






