اِحتیاطِ نظر ہم نہیں جانتے
Poet: سید عبدالستار مفتی By: سید عبدالستار مفتی, Samundri Faisalabadکب مِلی ہے نظر ہم نہیں جانتے
کب ہوئی ہے سحر ہم نہیں جانتے
رات ہے یا سحر ہم نہیں جانتے
کیسے ہوگی بسر ہم نہیں جانتے
آپ ہیں جان اگر تو جگر ہم بھی ہیں
فرق ِ جان و جگر ہم نہیں جانتے
پوچھنا ہے تو پھر پوچھیئے برق سے
کیوں جلا گھر کا گھر ہم نہیں جانتے
دیکھنا ہے جسے دیکھتے ہیں اُسے
اِحتیاطِ نظر ہم نہیں جانتے
ہم نے اڑنا ہے مفتیؔ اڑیں گے ضرور
رِیزشِ بال و پر ہم نہیں جانتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






