اِس خط میں میرا اظہار تڑپتا ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiاِس خط میں میرا اظہار تڑپتا ہے
لفظ لفظ یوں ہر بار تڑپتا ہے
لکھی جو قلم کی نوک نے عبارتیں
انہیں گیتوں کا گفتار تڑپتا ہے
کپکپاتی انگلیوں میں کبھی قلم بہکا تھا
فکر تشویش خود قلم کار تڑپتا ہے
ائے وقت غریبی تجھ پر تہمت تو نہیں
مگر تیری بیپرواہی سے سنسار تڑپتا ہے
جگتے ستاروں کے ساتھ دیئے بھی جلتے ہیں
کھلے دریچوں میں ایسے انتظار تڑپتا ہے
تیری الجھن میں جو سو نہ سکا اک پل بھی
اُسی ہی شخص کا آج، انتشار تڑپتا ہے
اے! زمانہ تیری شفقت میں بھی سنتوشؔ
بے ترس لوگوں کیلئے کوئی بیکار تڑپتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






