اِس کے اظہار کو اظہار نہ سمجھا جاۓ
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiاِس کے اظہار کو اظہار نہ سمجھا جاۓ
دل کسی کا بھی طلبگار نہ سمجھا جاۓ
دل تو پاگل ہے نئے انس پہ مرتا ہے روز
کوئی اس کا کبھی دلدار نہ سمجھا جاۓ
پتلہ مٹی کا وفا کر ہی نہیں سکتا کبھی
کسی انساں کو وفادار نہ سمجھا جاۓ
اس کے ہر کام میں حکمت جو چھپی ہوتی ہے
یوں کسی چیز کو بےکار نہ سمجھا جاۓ
اس کی مرضی جو نہ ہو پتہ نہیں ہل سکتا
خود کو بےکار کا مختار نہ سمجھا جاۓ
جس نے انسان سے نفرت کا کبھی درس دیا
ایسے دیں دار کو دیں دار نہ سمجھا جاۓ
شرک کرتا ہے کسی کا وہ دُکھاتا نہیں دل
ایسے کافر کو گنہگار نہ سمجھا جاۓ
یہ اگر چاہیں تو دنیا ہی پلٹ کر رکھ دیں
ان فقیروں کو اداکار نہ سمجھا جاۓ
جو دکھاوے کیلۓ ماتمِ شبیر کرے
ایسے مومن کو عزدار نہ سمجھا جاۓ
جو بھی لکھتا ہوں میں مالک کی عطا ہے باقرؔ
میرے فن کو میرا شہکار نہ سمجھا جاۓ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






