نہیں ہے راج کی خواہش سکندروں کی طرح
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiنہیں ہے راج کی خواہش سکندروں کی طرح
ہمیں نواز دے مالک قلندروں کی طرح
جو آج سہمے ہوئے چپ سے رہتے ہیں گمنام
وہ پھیل جائیں گے اک دن سمندروں کی طرح
اگر وہ چاہیں تو دنیا پلٹ کے رکھ دیں گے
نظر جو آئیں بظاہر گدا گروں کی طرح
فقیر لوگ نہیں تاج و تخت کے مہتاج
زمانہ جن کو جُھکے ہے سکندروں کی طرح
کہ سجدہ ریز ہو جن میں ہر ایک نوعِ بشر
ہوں مسجدیں تو کلیساؤں مندروں کی طرح
نہ جانے کس کا وہ بھگوان جا کے بن بیٹھا
جو ہم نے انس تراشا تھا پتھروں کی طرح
تو کیا ہوا ہے کہ تنہا ہیں آج شہر میں ہم
کبھی ہمارے بھی اپنے تھے لشکروں کی طرح
کبھی سرابوں میں خیمے کبھی پہاڑوں پہ گھر
تمام عمر رہا میں مسافروں کی طرح
ہے میرا حال ترے بعد دیکھنے والا
وہ آندھیوں کے ستاۓ بُجھے گھروں کی طرح
مرے نشان یُوں تاریخ میں ملیں گے کبھی
کہ ایک شخص تھا اُجڑا تھا کھنڈروں کی طرح
اکڑ کے چلنے کی عادت تُو بُھول جا باقرؔ
فقیری ذہن بنا لے سخنوروں کی طرح
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






