اِک دُعا نے بچا لِیا ہے ہمیں
Poet: سلیم کوثر By: Jawad Ahmed, Karachiاِک دُعا نے بچا لِیا ہے ہمیں
ورنہ کِس کِس کی بدُعا ہے ہمیں
اُس کی رُسوائیوں کا ڈر بھی ہے
اور کہنا بھی بَرملا ہے ہمیں
وصل کی آرزُو بھی ہے دِل مِیں
ہجر کا دُکھ بھی جھیلنا ہے ہمیں
دیکھنا یہ ہںے کون بچتا ہے
زخم تو ایک سا لگا ہے ہمیں
عشق تو پہلے بھی ہوئے تھے بہت
لیکن اب کے یہ کیا ہںوا ہے ہمیں
صِرف ہم نے نہیں اُسے کھویا
اُس نے بھی رائیگاں کیا ہے ہمیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







