اِک صورت
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTوہ صورت ہی کچھ ایسی تھی
انمول ہیرے جیسی تھی !
میں عشق کرتا کیسے نہ !
میں اس پہ مرتا کیسے نہ
وہ صورت بھولی بھالی تھی !
وہ سارے جگ سے نرالی تھی
جب پہلی نگاہ ڈالی تھی
اس نے میری نیند چرالی تھی
اک پل میں کر گئی دیوانہ
وہ صورت تھی کچھ شاہانہ
وہ چھیڑ کے عشق کا افسانہ
وہ بنا گئی مجھ کو پروانہ
وہ صورت عجب صورت تھی
کوئی پرستان کی مورت تھی
میں اس کا ہو گیا دیوانہ
وہ میری ہی ضرورت تھی
اس صورت کا ہائے کیا کہنا
جیسے پھول نے حسن ہو پہنا
جیسے شیشے میں کوئی ہو گہنا
جیسے بہار سے حسن کا بہنا
اس صورت نے چین گنوایا ہے
مجھے ہر لمحہ تڑپایا ہے!!
وہ صورت دکھے تو کہہ دوں میں
وہ میری زندگی کا سرمایہ ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






