اِک عشق تری حفاظت میں کتنے عاشق مرے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaاِک عشق تری حفاظت میں کتنے عاشق مرے
تری جستجو تری چاہت میں کتنے عاشق مرے
دشواریوں میں تُو نے بھی ساتھ نہیں دیا
ترے سر کی آفت میں کتنے عاشق مرے
عشق تجھے نہ خیال آیا ترے طلبگارو کا
اِک تری بکائے زیست میں کتنے عاشق مرے
تری خوشیوں کی تلاش میں نکلے بہت مگر
پھر فراق کے دہشت میں کتنے عاشق مرے
فتح کے شوقین تھے جنگجو تھے کمال کے
جان بُوج کے شکست میں کتنے عاشق مرے
ہر منزل کو پاڑ کرتے گئے دیوانے ترے
ترے پہلو میں اَنت میں کتنے عاشق مرے
ترے حساب میں نہیں آئے گے اے عشق !
نہال سمیت تری قیامت میں کتنے عاشق مرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






