اِک پھول سا چہرہ نگاہوں میں رہتا ھے
Poet: شوکت شہادت عل By: Shoukat Shahadat Ali, Karachiاِک پھول سا چہرہ نگاہوں میں رہتا ھے
ہر ایک سے ممتاز اور خوبصورت مجھے لگتا ھے
کسی اور کو دیکھوں بھی تو کیسے دیکھوں
وہ چہرہ ہر پَل مجھ ہی کو تکتا ھے
وہ ھے میرے لئے محبت کا ایک انمول تحفہ
وہ میرے لئے بہت ہی اہم حیثیت رکھتا ھے
اُس سے کہنا چاھتا ہوں مگر کیسے کہوں
کہ یہ دل تم ہی سے تو پیار کرتا ھے
اب وہ میری ھے اور میری رھے گی شوکت
آج یہ دل کھلے عام اس بات کی ہامی بھرتا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







