اپنا بن کر لوٹتے ہو
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKاپنا بن کر لوٹتے ہو تم مرے ایثار کو
یہ تو سوچو کیا کہیں گے لوگ ایسے پیار کو
جیسے کویٔ نِیم پاگل جس طرح خبطی کویٔ
پہروں ایسے دیکھتی ہوں میں در و یوار کو
پے بہ پے کیں آپنے مجھ پر جفاییںٔ ہر قدم
کر دیا پھر بے صدا آیینۂ اظہا ر کو
کیسی آندھی تھی کہ پتےً سب اڑا کر لے گییٔ
پل میں تنہا کر گییٔ ہے جو ہرے اشجار کو
توڑ دیں میں نے غلامی کی وہ زنجیریں سبھی
رکھ دو اپنے ہاتھ سے اب ظلم کی تلوا ر کو
اب ہو نازاں میرے سر سے سایباں کو چھین کر
ایک دِن تر سوگے تم بھی سایۂ دیوا ر کو
تم تو کہتے تھے تمہاری آبرو ہوں جان ہوں
داستانیں اب سناتے ہو مری اغیار کو
اب زمانے میں بھروسہ کس پہ عذرا کیجیۓ
ناگ بن کر ڈس لیا ہے یار نے اِک یار کو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







