تِرے جذبوں کی شِدت میں کمی محسوُس ہوتی ہے

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

تِرے جذبوں کی شِدت میں کمی محسوُس ہوتی ہے
ہو تبدیلی کویٔ بھی لازمی محسوُس ہوتی ہے

مِری دھڑکن کے روزن سے صدا آتی ہے نوحوں کی
مجھے دُنیا ہی ساری ماتمی محسوُس ہوتی ہے

یہ دو آ نسوُ پھسل آۓ کہاں سے میرے گالوں پر
کہ اب ساری فضا ہی شبنمی محسوُس ہوتی ہے

بِچھی ہے ہر طرف سبزے کی جیسے مخملیں چادر
نگاہوں کو ہر اِک شے ریشمی محسوُس ہوتی ہے

چھواُ ہے روشنی کے ہاتھ نے جیسے بدن میرا
رگوں میں دوڑتی اب چاندنی محسوُس ہوتی ہے

کِسی محفل میں کویٔ جب تمہارا نام لیتا ہے
نجانے کیوں مجھے دھڑکن تھمی محسوُس ہوتی ہے

تِری بے اعتنایٔ نے مجھے یہ کیا بنا ڈالا
بدن میں برف سی اب تو جمی محسوس ہوتی ہے

Rate it:
Views: 758
02 Nov, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL