اپنا حال دل تمہیں سنا ہی دیتے ہیں
Poet: A F By: A F, SAUDIA ARABIAوہ ہماری محبت سے ڈر جاتے ہیں
اس لیے تو ہم سے دور ہو جاتے ہیں
وہ سوچتے ہیں کہ کون ہیں وہ
ہمارے لیے چلو آج تمہیں ہم بتا ہی دیتے ہیں
اپنا حال دل تمہیں سنا ہی دیتے
ہیں چلو اب تم ہی بتاؤں کہ تم ہماری سانس ہو یا دھڑکن ہو
تم ہمارا دل ہو یا ہماری جان ہو
تم ہمارا جہاں ہو یا کل کانئات ہو
اب تم ہی بتاؤں کے کون ہو تم ہمارے لیے
میری جان تم مجھ میں شامل ہو مجھ سے بھی زیادہ
نہ ہوا کروں ہم سے خفا اتنا زیادہ
ہم چاہتے ہیں تمہیں اپنی جان سے بھی زیادہ
اب تو میری جان سمجھ جاؤں کہ کون ہو تم ہمارے لیے
تم ہی بتاؤں تمہارے پیار اور ساتھ کے علاوہ ہم نے کبھی تم سے
کچھ اور مانگا ہے
ہم نے تو بس تمہیں اور بس تمہں اپنی دعاؤں میں مانگا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






