اپنوں کے ملبوس میں جذبوں کے خریداروں نے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, islamabadاپنوں کے ملبوس میں جذبوں کے خریداروں نے
مجھے راستے کا پتھر کیا میرے غمگُساروں نے
آشنائی نہیں تھی مجھے مزاجِ آتش ِعشق سے
دل کو ہی جلا دیا میرے، اُلفت کے شراروں نے
تُو نے بھی اِسی سوچ میں ہر ظُلم روا رکھا مجھ پر
کہاں جانا ہے تیری محفل سے درد کے ماروں نے
عہد ِوفا چاہتے ہیں سر ِراہ چھوڑ کے جانے والے
نایاب محبت کو رُسوا کیا ہے دُہرے میعاروں نے
حوصلہ ہی نہیں دل میں راہِ دُشوار پہ چلنے کا
کبھی پاؤں پہ کھڑا ہونے دیا نہیں سہاروں نے
گُل وخُوشبو سے اِکبار میرے در و بام مزیّن کر کے
کیوں رُخ موڑ لیے میرے گُلشن سے بہاروں نے
ہمیں شمار کرتے ہو یا گِنتے ہو دُکھ درد اپنے
فرط ِحیرت سے مجھے پُوچھا شبِ ہجر کے تاروں نے
دل کو بھلا لگتا تھا لہروں کی آغوش میں رہنا
ساحل کی طرف آیا تو مجھے روک لیا کناروں نے
میری جیت کہیں رُخِ یار کا تبسم ہی نہ لے اُڑے
ڈر سے رِشتہ بنا رکھا ہے مجھ سے میری ہاروں نے
اب کے جاں لے لو یا عطا کر دو اُلفت کا سائباں
اور کیا مانگنا ہے رضا بے یارو مددگاروں نے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






