اپنی آواز سے آواز چرا لائی ہوں
Poet: By: وشمہ خان وشمہ, منیلااپنی آواز سے آواز چرا لائی ہوں
میں تو ہر فرد کا انداز چرا لائی ہوں
ہنس رہے ہیں سبھی اس زیست کی عریانی پر
جب سے احباب کے میں راز چرا لائی ہوں
چالبازوں کے محلے سے سرِ شامِ فراق
دیکھو میں عشق کے دمساز چرا لائی ہوں
شعر سننا تھا مجھے تیری جوانی پہ کوئی
اس لیے تو یہ سخن ساز چرا لائی ہوں
دل گرفتہ ہیں سبھی آج کبوتر ہر سو
اُس کی بستی سے کوئی باز چرا لائی ہوں
اڑ نہ پائے گا کبھی وشمہ عدو کا پنچھی
اس پرندے کی جو پرواز چرا لائی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






