اپنی دنیا کے بادشاہ ہیں ہم
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتیرے در کے اگر گدا ہیں ہم
اپنی دنیا کے بادشاہ ہیں ہم
غم نہ ملتے جو تیری ہجرت کے
اپنے آنگن کی یہ ہوا ہیں ہم
بیٹھی رہتی تمارے گلشن میں
میں بھی بلبل کی گر صدا ہیں ہم
مجھکو میری وفا نے کچھ نہ دیا
اچھا ہوتا جو بے وفا ہیں ہم
تو جو مل جاتا پیار کی صورت
کیوں مقدر پہ میں خفا ہیں ہم
میں بھی تجھ کو ہی مانگتی رب سے
تیرے ہاتھوں کی ہی دعا ہیں ہم
دل تقاضے نہ کر رہا ہوتا
روح تن پہ اگر جدا ہیں ہم
خاکساری سے ہیں دل اپنا ہم
صورتِ آئینہ صفا ہیں ہم
جو نہیں چاہتے کسی کا بھلا
وہ برے ہیں بہت برا ہیں ہم
ان کو ناآشنا سمجھتے جو ہم
کبھی ہرگز نہ آشنا ہیں ہم
میرے اور انکے چاہ ہوتی ہے
لوگ چرچے ہیں جا بجا ہیں ہم
دل نہ دینا کئی پہ وشمہ کو
کہ وہ دل لے کے ہیں دغا ہیں ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






