اپنی زندگی صرف میری ذات بتائی تھی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaآج آیا تو بہت ٹوٹا سا تھا وہ شخص
جس نے کبھی میرے ساتھ
نا چلنے کی قسم کھائی تھی
آج میرا حال دیکھا تو بہت
شدیت سے رو پڑا میرے آگے
جس نے کبھی بڑے پیار سے
میرے چہرے سے
شبنم کی بوندیں ہٹائی تھی
میں کیسے نہ کرےی معاف ُاسے لکی
جس نے آ کر میرے سونہے ہاتھوں میں
اپنے پیار کی مہندی لگائی تھی
پڑے پیار سے آیا وہ قریب میرے
اور اپنے نام کی چادر مجھے ُاڑاھائی تھی
میری پلکیں کیسے نہ نم ہوتی
جب سب کے پوچھنے پر ُاس نے
اپنی زندگی صرف میری ذات بتائی تھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






