اپنی ہی ادا دیکھ کے شرما گیا ہے چاند
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillشاید کسی کے حسن سے گھبرا گیا ہے چاند
دھیرے سے میری آنکھ میں یوں آ گیا ہے چاند
لیتا تھا مستعار یہ سورج کی شعائیں
ظل زمیں سے اسلئے گہنا گیا ہے چاند
دیکھا ہے اسے تیرے دریچے میں آج بھی
شاید سفر سے لوٹ کے گھر آ گیا ہے چاند
کھلنے لگی ہیں دیکھئے دالاں کو کھڑکیاں
تاروں کے جھمگٹوں سے بھی اکتا گیا ہے چاند
تھامے ہوئے ہیں وقت نے چنچل حنا کے رنگ
ہر سوچ میں اک چاند سا بکھرا گیا ہے چاند
چھونے لگی ہیں شدت وحشت کو فضائیں
شعلہ سا ایک شوق کا دہکا گیا ہے چاند
لہروں کے انگ انگ سے بجلی ہوئی عیاں
آ کر ندی کو نور سے نہلا گیا ہے چاند
بڑھنے لگی ہیں حسن کی بے لوث کروٹیں
جذبوں میں دیپ آس کے دمکا گیا ہے چاند
اک اک حسین داستاں بتلا گیا ہے چاند
اپنی ہی ادا دیکھ کے شرما گیا ہے چاند
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







