اپنی یاد میں کشش کتنی ہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaآج دیکھنا ہیں ، اپنی یاد
میں کشش کتنی ہے
کیا آئے گا وہ ، جو آنکھوں
میں نمی کتنی ہے
راہیں دیکھ دیکھ کر
آنکھیں ہاری کتنی ہے
تجھے کیا بتاؤ ، تیری راہیوں
میں شمعائیں جلائی کتنی ہے
جسں کی یادوں ، میں
بھول بھیٹی ہو خود کو
معلوم ہیں کیا ، اس کے
دل تیرے لیے محبت کتنی ہے
تیرا دل بےتاب ہو کر
جس کا اتنظار کر رہا ہے
معلوم ہیں کیا ، اسے
آنے کی بےتابی کتنی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






