اپنے اشک چھپاکر اک الہام دیجئے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiاپنے اشک چھپاکر اک الہام دیجئے
عشق سے ہٹ کر بھی کچھ کام کیجئے
کوئی یاد سب سکون چھین جائے تو
فقط منتظری کو دیئا اور بام دیجئے
تیرے گلستان میں بُوکھے پرندے دیکھو
غم چُن رہے ہیں انہیں دام دیجئے
ملے گا بھی فرقت کے سوا کچھ نہیں
شجاعت کے لئے ہر حسرت تھام لیجئے
مجھ سے جلواگری نے قرار چھین لیا
دنیا غم دیکر کہتی ہے آرام کیجئے
اک شوخی سے ہار چکی ہے سنتوشؔ
کہو کہ اس زندگی کیا نام دیجئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






