اپنے خوابوں سے میں کٹ تو سکتا نہیں
Poet: Hammad Hassan By: Hammad Hassan, PESHAWARمجھے ایسے جنگل سے ہو کے
گزرنا تھا اب
جہاں کی زمیں ذائقہ روشنی کی کرن کی
کبھی چکھ نہ پائی ازل سے
جہاں راستوں کا تصور نہ تھا
جہاں کوئی تفریق شام و سحر ہی نہ تھی
جہاں ہر شجر کے عقب میں
بلاؤں کے ڈیرے تھے سانپوں کے مسکن
جہاں موت
مجھے اب گزرا تھا ان برف زاروں
سے ہو کے جھاں
گرسنہ بھیڑیوں کے قطاروں کے بن
کوئ زندہ گواہی نہ تھی
جھاں کپکپاتی ہوا کو بھی اپنی
بقاء کے لیے
موسموں کے بدلتے ہوئے ذائقوں
کو اگلنا پڑا
مجھے ایسے صحرا کو بھی پاٹنا تھا
جو آتش فشاں سے بھی بڑھ کر
حرارت لئے
مستقل ابرو باراں سے عاری رہا
جس کے اگلے کنارے پہ سورج
کے گھر کی کہاوت سنی
جس کے ٹیلوں پہ بکھری ہوئی تشنگی
جس کے موسم فقط
آگ ہی آگ تھے
مجھ کو دیکھو کہ میں ہوں وہی
سخت جاں مثل سنگ
جو ایسے عذابوں کو بھی
سہہ کے آیا
جسے سوچنا بھی ہے مشکل
مگر میری بستی پہ اترے
عذابوں کے یہ سلسلے
ان کو میں سہہ تو سکتا نہیں
اپنے خوابوں سے میں کٹ تو سکتا نہیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






