اپنے دل میں وفا کا اک دیا جلا دیا ہوتا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaزیادہ نہیں صرف میرے اک لمحے کا
جاناں ! تم نے احساس تو کیا ہوتا
دھول سمجھ کر مجھے ہواؤں میں
تم نے یوں ُاڑا نا دیا ہوتا
زمانے کی ٹھوکروں نے کر دیا گھول پتھر
تم نے ٹھوکر لگا کر دریا میں نا گیرا دیا ہوتا
رکھیں الماری میں کپڑے تو اک جوڑا دیکھ کر یاد آیا
ہمیں اس جوڑے میں دیکھ کر تم نے نظروں کو جھکا دیا ہوتا
میری بے لوث محبت پے زیادہ نہیں تو فقط
اپنے دل میں وفا کااک دیا جلا دیا ہوتا
جس پل سوالوں کا ہجوم تھا میرے سر پر لکی
ہاں اسی وقت لوگوں کو مجھے اپنا بتا دیا ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






