اپنے کیئے پہ خود وہ پشیمان ہوگئی
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, KARACHIسنک ر وہ میری بات کو حیران ہوگئی
میرا سوال سن کے پریشان ہوگئی
ذلت کیساتھ مجھ کو نکالا گیا تھا جب
وہ دیکھتی رہی مگر انجان ہوگئی
اب یاد کر کے روتی ہے میری وفاؤں کو
ٹھکرا کے مجھ کو میری قدر داں ہوگئی
جب بے رخی کو میں نے گلے سے لگا لیا
چاہت پلٹ کے پھر سے مہربان ہوگئی
دل کے چمن میں جب بھی بلایا تو رد کیا
پر آج بن بلائے ہی مہمان ہوگئی
اب جمگٹھے میں رہنے کی عادت نہیں رہی
تنہائیوں سے اب میری پہنچان ہوگئی
زخموں سے میرے دیکھ کر رستا لہو اشہر
اپنے کیے پہ خود وہ پشیمان ہوگئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






