اپنے ہی دل کے در و بام سے ڈر جاتی ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارکاپنے ہی دل کے در و بام سے ڈر جاتی ہوں
خوف میں الجھی ہوئی شام سے ڈر جاتی ہوں
کتنی الجھی ہے یہاں پیار کہانی اپنی
جانے کیا ہو گا میں انجام سے ڈر جاتی ہوں
اس قدر تو نے چرایا ہے مرا شعر و سخن
جب بھی پڑھتی ہوں ترے نام سے ڈر جاتی ہوں
تجھ سے ملنے کی تمنا ہے مجھے شام و سحر
تری ہجرت کے میں ایام سے ڈر جاتی ہوں
میری آنکھوں کا یہ بہتا ہے تو کاجل بہہ لے
پھر بھی چھلکے جو کبھی جام تو ڈر جاتی ہوں
مجھ کو لاتی ہے یہاں تیری عقیدت وشمہ
ورنہ اپنے ہی کسی کام سے ڈر جاتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






