اچانک کہیں گم ہوجانے سے ڈر لگتا ہے
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiاچانک کہیں گم ہوجانے سے ڈر لگتا ہے
محبت تو کر سکتا ہوں نبھانے سے ڈر لگتا ہے
زندگی ہے جو موت کے قریب کئے جاتی ہے
بس اتنی سی بات سمجھانے سے ڈر لگتا ہے
بضد تھا مجھے کسی کھیل میں حصہ بنا لیتا
کھیلا نہیں کہ اسکو ہرانے سے ڈر لگتا ہے
ضرورت اسکی ایسی کوئی خاص کب تھی
مگر پھر بھی اسے بھگانے سے ڈر لگتا تھا
زندگی کی قید سے کب بھاگ چکا ہوتا راہی
بس زمانے کے رونے دھونے سے ڈر لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







