اچھا لگتا ہے
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiسرگوشیوں میں گفتکو کرنا
کن انکھیوں سے ادھر ادھر تکنا
کلائی میں پڑی اکیلی چوڑی سے کھیلنا
یونہی بیٹھے بیٹھے زیرِ لب مسکرا نا
سرسری سا موسموں کا تذکرہ کرنا
اچھا لگتا ہے
اپنی انگشت میں پڑی انگوٹھی کو بے وجہ گھومانا
ڈوپٹے کا پلو بے وجہ ہی سنبھالنا
آئینے میں اپنے آپ کو ٹٹولنا
اور پھر سجنا سنورنا
اپنے آپ میں کسی خیال کو لیکرسمٹنا
اچھا لگتا ہے
تمھاری ان اداؤں سے
زندگی کوگزرنے کا حوصلہ ملنا
مجھے یوں ہی زندگی کا گزرنا
اچھا لگتا ہے
میں اپنی یادوں کی پوٹلی میں یہ سب سمیٹیمہوے سفرہوں
پھر کبھی بھی ، کہیں بھی انہیں کھولنا
تیری زندگی سے بھرپور اداؤں کو دیکھنا
کائنات میں اب تو بس یہی ایک کام
اچھا لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






